Skip to content

مینوپاز اور ہومیوپیتھی

مینوپاز، ہارمون تھراپی، مذہبی جنون اور ہومیوپیتھی

تحریر: Homoeopathic Dr. Sohail Ahmed·19 منٹ مطالعہ·

اسلام علیکم میرے معزز ہومیوپیتھس و مریضان! آج آپ کی خدمت میں جو شاہکار لیکر حاضر ہوا ہوں یہ میڈیکل سائنس کے اس منفرد مکتبہ فِکر کی اہمیت و منفرد مقام کو اجاگر کرتا ہے جس سے زیادہ تر لوگ نا بلد ہیں، اس مکتب کا نام ہے ہومیوپیتھک مییڈیکل سائنس، ایک ایسی سائنس جسے دیگر سائنسوں کے برعکس زوال نہیں۔ دو صدیوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ایک نُکتہ تو دُور حتٰی کہ ایک علامت تک تبدیل نہیں ہو سکی۔ اور یہی اس سائنس کے ثبات پزیر ہونے کی سب سے بڑی اور واضح دلیل ہے۔ اس سائنس کی مثال ان دو طاقتوں سے لیتے ہیں جو فِتنہ بگاڑ اور تباہی پھیلا رہی ہوتی ہیں جبکہ اس فتنہ میں تحفظ فراہم کرنے کے لیے اللہ نے ایک تیسری طاقت بھی سائیڈ پر پوشیدہ رکھی ہوتی ہے۔ جب پہلی دو طاقتیں اپنے اپنی حکومت یا طاقت حاصل کرنے کی تگ و دو میں لڑ لڑ کر مر جاتی ہیں تو اللہ کریم اِک تیسری طاقت کو آشکار کر دیتے ہیں۔ اور دوستو آپ کو اللہ کےنظام پر فخر ہونا چاہیے کہ یہ تیسری طاقت ہومیوپیتھی ہی ہے۔ ایلوپیتھی اینٹی بائیوٹک اور سٹیرائڈ تک محدود رہ گئی ہے جبکہ یونانی یا حکیمی علاج ٹائمنگ کے کیپسولز تک محدود رہ گیا ہے۔ اور دوسری جانب ہومیوپیتھک ڈاکٹرز اپنی والز پر شفایافتہ فیڈبیک اور رپورٹیں لگا لگا کر تھک رہے ہیں۔ یہ دعوٰی ریکارڈ کا حصہ ہے کہ تینوں مکتبہ فکر  school of though کے معالجین کی سوشل میڈیا سرگرمی اور کلینکل مصروفیت میں غوطہ لگا کر دیکھ لیں، فقط ہومیوپیتھک معالجین ہی حقیقی شفاء کے دعوؤں کے ثبوت اور شفاء کا میکانزم فراہم کرتے نظر آتے ہیں۔ میرے معزز قارئین میں نے یہ مثال خود ساختہ نہیں دی، بلکہ یہ مثال قرآن پاک سے اخذ کی ہے۔   سورہ بقرہ: آیت 2:251

مفہوم: ہم یوں ہی ایک فسادی کو دوسرے فسادی کے ذریعے سے دفع کرتے ہیں۔  سورةالحج کی آیت 22:40 بھی یہی سبق دیتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھ آ جانی چاہیے کہ ہر وہ چیز جو اس دنیا، انسان یا انسانی بقاء کے رستے میں بگاڑ پیدا کرتی ہے، اللہ اس کی مخالف طاقت کے زریعے اسے رستے سے ہٹا دیتا ہے، یعنی رب زوالجلال نے ہر سیر کے اوپر سوا سیر رکھا ہے۔ جو اس کا قلع قمع کرتا ہے۔ اور یوں اللہ کریم اپنے اس قانون کے زریعے باطل طاقتوں کو مٹاتا رہتا ہے۔ دوستو 2005 میں کسی بھی ایلوپیتھ اور حکیم کو آقا یا زندگی کا سربراہ سمجھا جاتا تھا اُن کو سب سے الگ مقام اور عزت دی جاتی تھی اور آج ان کا کیا حال ہے؟ آپ کے سامنے ہے، ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ کوتاہیاں، جھوٹے دعوے اور بہکاوے، مریضوں کو سر سے پاؤں تک سائیڈ افیکٹس سے بھرنا، کمیشنوں اور رشوتوں سے کروڑوں روپے جمع کرنا، خود کو مسیحا کہہ کر بلاضرورت سی سیکشن کرنا، جاتے مریض کو دھڑام سے ڈرِپس ٹھوکنا، تھوڑی سی محنت یا صبر کی بجائے فوراً سٹیرائیڈ اور اینٹی بائیوٹکس کی بھرمار کرنا سرفہرست ہیں۔ اس صورت میں یا حق چل سکتا ہے یا پھر باطل۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ حق یا باطل کون ہے۔ البتہ مکمل فنا کسی بھی سسٹم کو نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ اس سسٹم میں بدعت کی طرح نئی چیزیں داخل ہونے پر اس کے مدمقابل ایک نئی طاقت کو لا کھڑا کیا جائے گا۔ آپ میرے یہ الفاظ لکھ کر رکھ لیں، 2050 تک لوگ ان ڈرگز کے مضراثرات سے مکمل طور پر واقف ہو چکے ہونگے، لوگ اپنے بچوں کو Mbbs کی تعلیم دلوانا ترک کر دینگے۔ کیونکہ یہ ساری کی ساری انڈسٹری ہی دھوکے، شارٹ کٹ اور وقتی افاقوں پر مبنی ہے۔ ڈاکٹرز کا اول و آخر مقصد ہی کمیشنوں سے گھر، حج اور بیرون ممالک کے ٹکٹس حاصل کرنا ہے، مریض کے جسم کو سمجھنے کی جسارت ہی نہیں کرتے، کسی مریض کے جسم کی ایک علامت سے بھی واقف نہیں ہوتے جبکہ دوسری طرف ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر کو اپنے مریضوں کے احساسات، خواہشات اور لوازمات تک کا علم ہوتا ہے۔ خیر فلسفہ کافی طویل ہو گیا، ہم آتے ہیں اپنی اصل داستان کی طرف، جو کہ  گزشتہ رات ایک نئی آنے والی مریضہ کی کیس ہسٹری سے اقتباس کی گئی ہے۔ آخری اپوائنٹمنٹ کے مطابق حسبِ وعدہ ایک جوڑا Soulmate کلینک میں داخل ہوا، ان سے پہلے میں اپنی تمام اپوائنٹمنٹس نِپٹا چکا تھا۔ مریضہ میرے سامنے والے صوفہ میں بیٹھتے ہی میری کیس ٹیکنگ کرنے لگی یعنی میرا انٹرویو لینے لگی، اور کچھ سوال ایسے داغ دیے جن سوالوں سے مجھے ویسے ہی الرجی ہے، پہلا سوال آپ نے مکمل تعلیم حاصل کی ہوئی ہے؟ یہ تجربہ وراثتی طور پر مِلا یا خود سیکھا؟ دوسرا سوال آپ کی عمر کیا ہے؟ جبکہ تیسرا سوال تھا آپ کی فارمیسی میں جو دوائیاں دِکھائی دے رہی ہیں یہ تو جرمنی کی نہیں ہیں۔ میرے معزز دوستو جب بھی کوئی یہ سوال اکیلا یا علیحدگی میں پوچھ لے مجھے قطعاً کوئی اعتراض نہیں ہوتا مگر جب ویٹنگ ایریا میں مریض بیٹھے ہوں اس صورت میں مجھے ان سوالوں سے الجھن محسوس ہوتی ہے۔ اس دوران فارمیسی میں دو families کی دوائیاں تیار Dispense ہو رہی تھیں، جو کہ دوائی تیار ہونے کے منتظر تھے، ایک  مریضہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بمع والدہ، دوسری لڑکی اسلامیہ گورنمنٹ گرلز کالج لاہور میں لیکچرر اور تیسری لڑکی پنجاب یونیورسٹی کی دبنگ سوشل رہنما، اب جبکہ اس سارے ماحول میں میرے بارے زاتی سوال کیے جائیں تو میرا مُوڈ تھوڑا upset ہی ہو گا، مگر میں نے اپنے اعصاب پر کنٹرول کرتے ہوئے اور چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے مریضہ سے شائستہ انداز میں پوچھا کہ یہ بتائیں آپ کو ریفر کس نے کیا ہے؟ اگر انٹرنیٹ کے زریعے آئے ہیں تو وہاں میری کافی تصویریں موجود ہیں، میں کس طرح کام کرتا ہوں وہ بھی موجود ہے، اگر کسی نے ریفر کیا ہے تو یقیناً آپ کو میری عمر یا حُلیہ بھی بتایا دیا ہو گا، اور جہاں تک بات فارمیسی اور دوائیوں کی ہے تو آپ کو میرے ہاتھوں شفاء کے حصول سے زیادہ پریشانی فارما کمپنی کی کیوں ہے؟ جب آپ اتنی دور سے میرے تک پہنچ گئی ہیں تو اللہ پر یقین رکھ لیں۔ میں جرمن کمپنی کی نفی نہیں کرتا مگر میں پاکستانی کمپنی مسعود پریفر کرتا ہوں۔ باقی کام اللہ اور ایک معالج کا ہوتا ہے جو کہ حقیقی شفاء کے اصولوں سے واقف ہونا چاہیے۔ اب آپ بتائیے کس مسئلہ کے لیے حاضر ہونا پڑا ؟ مریضہ کہنے لگی کوئی خاص مسئلہ تو نہیں بس مجھے معدہ کا شدید مسئلہ ہے، نیند بالکل نہیں آتی، غصہ حد سے زیادہ ہے اور قبض مجھے وراثت سے مِلی ہے، معزز ہومیوپیتھس میں اپنے مریضوں کے سامنے ہمیشہ اپنی نرم گفتاری اور شائستہ مزاجی کا فائدہ اٹھاتا ہوں، مریض مجھے معصوم یا انتہائی شریف سمجھ کر اپنی اصل شخصیت، رویے یا سوچ کو اجاگر کرنے لگتے ہیں۔ آپ بھی کبھی آزما کر دیکھ لیجیے گا، یاد رکھیں ایک ہومیوپیتھ کو ہمیشہ سادہ ہونا چاہیے مریض اگر آپکے رُعب، پینٹ کوٹوں، تلخ لہجہ، جلدبازی یا دبدبہ کی بدولت کوئی علامت، زاتی خواہش، یا تکلیف کا اظہار اپنے اندر چھُپا گیا تو یہی آپ کا اصل نقصان ہے جو شفاء سے بہت دُور لے جائے گا، مریض کو ایسا ماحول دیں کہ وہ ایسے راز بھی بتا جائے جو دہائیوں سے اس کے اندر پوشیدہ ہوں حتی کہ آپنے محبین سے بھی ایسا اظہار نا کر سکا ہو۔ اس موقع پر میری ایسی مریضہ یاد آ گئی جو اپنے پہلے ہی وزٹ میں رو کر کہنے لگی بیٹا آپ نے مجھ سے میری زندگی بھر کی ہسٹری اکٹھی کر لی مگر کیا مجھ سے یہ نہیں پُوچھو گے کہ میرے ساتھ میرا شوہر کیسا تھا؟ 💔 بہرحال ان کی داستان اور مزاج کو کنفرم کرنے کے بعد Pulsatilla تجویز کی اور بعد میں کلکیریا کارب (اینٹی سورک) کی مدد سے کیس کلوز کیا۔ لہٰذا جب میں نے اپنا انٹرویو لینے والی مریضہ کے ساتھ مسکراہٹ اور شگفتگی اختیار کیے رکھی، اسی اثنٰی میں مریضہ نے صوفہ پر ایک گہری take لگا لی، یقیناً آپ سب نے چودھری شجاعت حسین (صدر مسلم لیگ Q) کی ٹیک take تو دیکھ رکھی ہو گی؟ مگر بات صرف take تک نا ٹھہر سکی بلکہ میری معزز مریضہ نے اپنی ٹانگیں سیدھی کرتے کرتے ٹیبل پر رکھیں اور ساتھ ہی دونوں پاؤں ٹیبل کی ٹاپ پر لگا دیے۔ دوستو اس سارے لمحات میں مجھے زرہ بھی پریشانی نہیں ہوئی بلکہ خوشی اور excitement مِل رہی تھی، کیونکہ میرے ذہن نے ایک خاکہ تیار کر لیا تھا کہ اگلا آرٹیکل کس دوا کی ڈرگ پکچر پر ہو گا، اور میں اپنے مریضوں کی ہسٹری کو ایسے ہی انجوائے کرتا ہوں۔ چونکہ میں بتاچکا ہوں کہ دوائی میرے زہن میں وارد ہو چکی تھی، اب مزید ہسٹری لیکر فقط اپنے اصولوں کا ٹھپہ لگانا باقی تھا، میرے معزز قارئین میں نے ہسٹری کے درمیان بارہا نوٹ کیا، مریضہ کا شوہر انتہائی سُکڑ کر بالکل سیدھے تیر کی طرح بیٹھا رہا، میں نے کہا کہ مجھے چند سوالوں کے جوابات چاہییں، اور وہ جواب مریضہ سے نہیں بلکہ شوہر سے چاہییں۔ پہلا سوال مریضہ کو غصہ کس بات پر زیادہ آتا ہے؟ شوہر اپنی بیوی کی طرف دیکھ دیکھ کر دبے پاؤں جواب دینے لگا کہ جب ان کی زرہ سی بھی بات نا مانی جائے یا حُکم کو ٹھیس پہنچے۔  دوسرا سوال مریضہ کا حلقہ احباب کتنا ہے؟ شوہر ہنس کر کہنے لگا پُورا پاکستان ہی اِن کے زیرِ اثر ہے، ہمارا خاندان کوئی بھی رشتہ دار، ہمسائے حتٰی کہ اِن کے مائیکے اور سسرال می بھی انھی کا راج چلتا ہے ہر کام اور فیصلے ان کے مشورے اور اجازت سے انجام پاتے ہیں۔

میں نے پوچھا جب کوئی ٹھکرا دے؟ کہنے لگے کہ وہ یہ برداشت نہیں کر سکتی۔ اور نا ہی کوئی ایسا کرتا ہے ورنہ یہ قہر برساتی ہیں اور منھ پر اسی لمحے اگلے کو پُورا کر دیتی ہیں۔ دوستو یہ تمام باتیں سن کر مریضہ خوش اور لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ البتہ برداشت نا کرنے والی بات پر مریضہ نے گرج دار انداز میں شوہر کی طرف دیکھا اور شوہر کچھ دیر کے لیے اُدھر ہی خاموش رہا۔ مجھے اسی وقت میرا انتخابِ دوا remedy selection اور اِک نیا آرٹیکل مِل چُکا تھا۔ جو چیز Dulcamara کو باقی مزاجوں اور ڈرگز کی nature سے الگ کرتی ہے جو کہ مرکزی theme بھی کہلاتا ہے وہ ہے چاروں طرف حاکمیت، آپ نے لیکسس کو شادی سے پہلے بھابیوں کو آگے لگاتے دیکھا ہو گا؟ شای کے بعد سُسرالیوں خصوصاً ساس اور دیورانیوں جیٹھانیوں کی زندگی اجیرن کرتے دیکھا ہو گا مگر جو بیک وقت سُسرال اور مائیکے کو کنٹرول کر کے رکھے اسے ڈلکامارا کہتے ہیں۔ عورت کا حد  سے زیادہ کنٹرول، راجدھانی اور حُکمرانی اسی دوا کے زیرِ اثر آتا ہے اس میں پلاٹینا یا لیکسس کی طرح فقط خبط، خوف، خواہش اور حسد تک بات نہیں رہتی بلکہ یہ پریکٹیکلی مزاجی اور خاندانی طور پر حُکمران عورتوں اور مہارانیوں کی دوا ہے، اور میں اسے پاکستان کے لاکھوں گاؤں دیہاتوں میں مقیم خاندانی نمبردارنیوں کی دوا بھی کہتا ہوں، جو شوہر سے بھی زیادہ پورے گاؤں میں اپنا سِکا منواتی ہے۔ اب آتے ہیں مریضہ کے پیتھالوجیکل پہلوؤں کی طرف، میرا خیال ہے مجھے بڑے بڑے ریفرنس دینے کی ضرورت نہیں، آپ فقط بورک کھولیں، پہلی پانچ سات لائنیں پڑھ لیں، بخوبی سمجھ جائیں گے کہ مریضہ گزشتہ رات ہی طبیعت سے تنگ آ کر میرے کلینک کیوں آئی اور مریضہ کو معدہ کا شدید مسئلہ لاحق کیسے ہوا، آپ جانتے ہیں حالیہ دنوں پاکستان کے بیشتر علاقوں میں غیرمتوقع بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، بہرحال میں اس دوا کی جسمِ انسانی پر ڈرگ پروونگ  اور حاصل ہونے والی علامات کا انسائیکلوپیڈیا واضح کر دیتا ہوں، دوستو ڈلکامارا کی پروونگ سے درج ذیل نظاموں Systems پر گہرے اثرات/تبدیلیاں مرتب ہوئیں، 

۱- مخاطی جھلیاں Mucous Membranes جن میں Respiratory system کی جھلیاں جیسے ناک، گلہ اور GIT کی جھلیاں  معدہ و آنت کا ٹریک خصوصی طور پر متاثر ہوا۔ جس کی وجہ سے اس مریضہ کو بار بار ٹھنڈے مرطوب موسم میں میوکس ممبرینز کی سوزش یا irritation لاحق ہوتی ہے۔

۲- عضلات اور ریشہ دار بافتیں Muscles & Fibrous Tissues 

چونکہ ڈلکامارا زیادہ تر نمی والی جگہوں (دریاؤں کے کنارے، دلدلی زمین) میں اگتا ہے، اس کی پرورش growth مرطوب humid ماحول میں بہتر ہوتی ہے، اس دوا کی پروونگ کے دوران اس نے بار بار ان لوگوں کے جوڑوں میں اکڑاؤ، سوزش اور درد پیدا کی جن کا exposure نمی یا ٹھنڈی جگہ میں زیادہ تھا، پورے جسم میں اکڑاؤ حتٰی کہ مزاج میں اکڑ پیدا کرتی ہے۔ لہٰذا ڈلکامارا کو یاد رکھنے کے لیے لفظ "اکڑ" زہن نشین کر لیں۔

خواہ جسمانی یا زہنی سطح پر۔

۳- جلد اور غدود Skin & Glands

دوستو سرد مرطوب موسم کی آمد میں با بار سر اُٹھانے والے بہت سارے ایسے الرجی یا ایکزیمہ کے کیسز جن کو ہم غیرمماثل سلفر یا تھوجا سے خراب کر لیتے ہیں پرانی سپریشن کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں وہاں پر ڈلکامارا اور آرسینک البم سے جسم کی گہری اندرونی تہہ میں دبے ہوئے جلدی امراض کو واپس بیرونی سطح پر لایا جا سکتا ہے تاہم اس کے خاص موسم یا ٹمپریچر کی نزاکت سے فائدہ اٹھانا ہمیشہ ایک اہم پہلو رہے گا۔ 

۴- پیارے پیارے ہومیوپیتھس اس دوا کا سب سے اہم اور خاص ایکشن اعصابی نظام Nervous System پر ہوتا ہے جس نے اس شخصیت کا ذہنی و جزباتی ڈھانچہ ہی تبدیل کر رکھا ہے اس مریض کا لِمبک سسٹم جو کہ جزبات، غم و غصہ اور ردعمل کو کنٹرول کرتا ہے، یہ سسٹم انتہا کی حد تک overdrive ہوتا ہے۔ دوستو آپ سبھی جانتے ہیں کہ ہمارے دماغ کی گہرائی میں ٹیمپورل لوب میں ایک بادام کی شکل کا چھوٹا سا حصہ ہوتا ہے جسے ہم Amygdala کہتے ہیں۔ دماغ کا یہ حصہ Amygdala غصہ، حاکمیت dominance اور برداشت (control) کو regulate کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ڈلکامارا میں Amygdala اوورایکٹو Overactive ہو جاتا ہے اور ہر چھوٹی مخالفت کو اپنے لیے "threat" سمجھنے لگتا ہے

اور بار بار اس حرکت کا یہ نکلتا ہے کہ اس مزاج کے اندر ہر طرف control کرنے کی شدید خواہش جنم لے لیتی ہے۔  جو ہم نے Genes کے زریعے نئی نسل یا اولادوں تک پہنچتے دیکھی ہے۔ میرے معزز قارئین ڈوبتا وہی ہے جو تیراکی کرتا ہے، اپنی توہین یا حُکم عدولی کا خطرہ اسی پر منڈلائے گا جو پہلے سے حاکمانہ طبیعت کا حامل ہوتا ہے، اور اپنے حکم کے ٹھکرائے جانے کے خوف سے ایڈرینل گلینڈ Adrenal gland ایک کیمیکل نیوروٹرانسمیٹر خارج کرتا ہے جس کو ایڈرینالین کہتے ہیں ایڈرینالین جب ضرورت سے زیادہ خارج ہونے لگے تو ایسے افراد کی بلڈ سرکولیشن بڑھ جاتی ہے، خون کی نالیاں سُکڑ جاتی ہیں جس سے بلڈپریشر بڑھ جاتا ہے اور شدید غصہ آتا ہے۔ اس غصہ میں مریض چڑچڑا اور جلد trigger ہوتا ہے خود کو سکون دینے کے لیے اپنے حکم کی تعمیل چاہتا ہے، آگے چل کر یہی غصہ اور طیش کی بار بار آنے والی حالت مریض کو امراض قلب اور فالج میں مبتلا کر دیتی ہے۔ نیند کو اُڑھا دیتی ہے اور پھر ایسے لوگ ایلوپیتھی میں قبر تک Beta blocker لیتے رہتے ہیں۔  دوستو بُرے کام کا بُرا نتیجہ اللہ کریم نے ہمارے جسم کو بھی بہت fair اور neutral بنایا ہے یہ اپنے آپ کے اوپر کیا گیا ظلم بھی برداشت نہیں کرتا اور اس کا خاص ردِعمل دیتا ہے۔ ہم نے یہ جان لیا ہے کہ کوئی اگر بار بار غصہ کرے گا تو وہ دل کا مریض کیسے بنے گا؟ فالج کا شکار کیسے ہو گا؟ لہٰذا اللہ سے ڈریں اور زمین پر اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کریں کیونکہ اصل حاکمیت اللہ کو ہی جچتی ہے۔ جو تمام جہانوں کا مالک اور نظام کو چلانے والا ہے اور اس نظامِ کائنات  میں زرہ بھر بھی کسی سے ناانصافی یا زیادتی شامل نہیں۔ اور اگر کوئی انسان یہ سب کرے تو پھر ہم نے اس کا کیمیکل میکانزم بھی پڑھ لیا ہے کہ کیسے اس کا دل اور حکم چلانے والی زبان کو فالج کے زریعے جکڑ لیا جاتا ہے۔ دوستو اب سمجھ آیا کہ ہومیوپیتھک میڈیکل سائنس اللہ کی خاص عطاؤں میں سے کیوں ہے؟ یہ اللہ نے ہمیں ایک پودے سے سیکھا دیا ہے تو حساب لگائیں اس کائنات کی ہر نعمت ہمارے لیے کن اسباق اور پیغامات سے بھری ہوئی ہے۔ دوستو جب بار بار حکم عدولی ہو یا ضد کو دھچکا لگتا رہے تو تب کارٹی سول Cortisol ہارمون imbalance ہو جاتا ہے لہٰذا اپنے کیسز میں اس Etiology کو لازمی یاد رکھا کریں۔ ہم کارٹی سول corisol hormone کی بے قاعدہ مقدار اور اس کے عِوض آنے والی کئی بیماریوں کو فقط Etiology سمجھ کر ڈرگ پکچر کنٹراس contrast کر کے ٹھیک کر سکتے ہیں۔ یہاں سے ایک اور پیٹرن سجھ آ جاتا ہے کہ 45 سال کی عمر میں ساس بنتے ہی حُکم چلانے کی عادت کیوں پڑتی ہے؟ اور بلڈپریشر کی گولی لازم و ملزوم کیوں ہو جاتی ہے۔ دوستو یہ چکنائی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے پہلے پہل تو لوگوں کے کھانے ہی دیسی گھی میں بنتے تھے، اصل مسئلہ حاکمیت ہے۔ میں سمجھتا ہوں آج کی عورتیں پہلے والی عورتوں سے بھی زیاد کام اور زمہ داریاں نبھاتی ہیں۔ مگر بیماری اب کیوں ؟ فقط یہی اسباب برسراقتدر ہیں پہلا حاکمیت اور دوسرا ہلکی سے ٹینشن پر بلڈپریشر اور دل کی دوائیوں کا عادی ہو کر امراض کو کرونک بنا لینا۔

دوستو لیکسس اور ڈلکامارا میں بنیادی تفریق ان کی تھرمل حساسیت سے ہو جاتی ہے، لیکسس یخ گرم جبکہ ڈلکامارا یخ ٹھنڈی۔

 بہرحال میں بتا دیتا ہوں کہ گرمی سے سردی کی طرف جاتا ہوا موسم، ایسی نمی جس میں راتیں سرد اور دن گرم ہوں، خشکی سے نمی کی طرف سفر، یا بارشوں کے موسم میں بھیگنے سے آنے والے جسمانی عوارض بالخصوص ریسپائریٹری مسائل، معدہ اور ہاضمہ کے مسائل، اور خاص الخاص جوڑوں کے مسائل، ہڈیوں کی پرانی دردیں جو برسات میں لوٹ آئیں، گنٹھیاوی دردیں جو نمی یا بارشوں  میں لوٹ آئیں۔ معزز قارئین میں نے آٹوامیون بیماری SLE کے درجنوں مریض صرف اس لیے ڈلکامارا سے ٹھیک کیے کیونکہ ان کا مزاج ہی ڈلکامارا کا متقاضی تھا، حتی کہ SLE کےایسے کیسز جو نمی میں بڑھ جاتے ہیں جن میں جلدی rash, eczema, اور جوڑوں پر سختی و شدید دردیں، اور سانس کی الرجی شامل ہے ان کو پیتھالوجیکلی بھی مماثلت کی نظر سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس مریضہ کے فالج کی وجوہات Etiology 

  پر غور کریں تو یہ وہی غصہ اور طیش ہوتا ہے جو حُکم عدولی پر آتا ہے، جب یہ غصہ بار بار شدت اختیار کرنے لگے تو کارڈیوواسکولر cardiovascular بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ ہم یہ بات پروونگ کے سیکشن میں بھی زکر کر چکے ہیں۔ آپ مجھے کوئی ایک authentic نمبردارنی دکھا دیں جو بلڈ پریشر کی گولیاں نا کھاتی ہو؟ ویسے تو اب ہر گھر میں یہ مریضائیں موجود ہیں جو حُکم عدولی برداشت نہیں کرتیں، وہ بھی طیش کے حملوں کے سبب BP بڑھنے اور دل کی دوائیاں کھانے میں قبر تک مصروف رہتی ہیں۔ یہاں سے ہمارے معاشرے کی خواتین کو یہ بھی سمجھ لینا چاہیے کہ راج دھانی، حُکم منوانے کی عادت، اور حُکم عدولی کو برداشت نا کر سکنے کی عادت اِن کو کہاں تک لے جاتی ہے۔ دوستو ڈلکامارا میں عیب جوئی کُوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے لیکن اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دوسرے کی سُپرامیسی یا کانفیڈنس کو کم تر کیا جائے۔ اور خود کی supramacy منوائی جائے۔ اس لیے یہ خود کی حاکمیت کو قائم رکھنے کے لیے دوسروں کے عیب اور کمزوریاں ہر وقت اپنے دماغ میں تیار رکھتی ہیں۔ جیسا کہ ہم تھوجا میں بھی زکر کر چکے ہیں۔ مگر وہاں ہمیں مردوں کی کثیر تعداد جبکہ اِدھر ڈلکا کی کثیر تعداد دیکھنے کو ملتی ہے۔ جیسا کہ رات کو مریضہ نے آتے ہی مجھے تین چار سوال داغ دیے، تاکہ میری well managed سوشل پروفائل اور شفایافتہ فیڈبیکس کے ہاتھوں مرعوب نا ہو اور مجھے low کر کے خود کا تشخص Build یا boost کر سکے۔ میرے معزز قارئین یہ مریضائیں انتہا کی شکی ہوتی ہیں جس کا اظہار مریضہ خود اپنے منھ سے کر گئی، کیونکہ ہسٹری لیتے لیتے مریضہ کا رویہ فرینڈلی رُخ اختیار کر گیا، اور یہی بات کینٹ نے بھی واضح لِکھی ہے۔ مریضہ مجھے کہنے لگی کہ کوئی میرے پاس سے بھی گُزر جائے تو مجھے نزلہ زکام لگ جاتا ہے، اور ابھی مجھے تھوڑی دیر پہلے کسی جاننے والی کے گلے مِلنے سے پھر زکام لگ گیا ہے۔ میرے دوستو حقیقت وہی ہے جو ہمارے بورک انکل نے اوپر والی لائنوں میں درج کر دی ہے۔ باقی سب شک ہی شک ہے۔ میں قُربان جاؤں پروفیسر جارج وتھالکس کے جس نے یہ واضح لکھ دیا ہے کہ ڈلکامارا بار بار نزلہ زکام میں مبتلا ہو جاتی ہے اور یہی علامت مجھے مریضہ بتا رہی تھی مگر برساتی نمی اور شک میں واضح فرق ہے۔  ماسٹر جی نے لکھا ہے کہ یہ کسی بھی ڈاکٹر سے Impress نہیں ہو پاتیں مگر الحمداللہ مریضہ جاتے وقت ہمیں دعائیں دیکر گئی ہے۔ دوستو سمجھنے کی کوشش کریں ماسٹر جی کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی ان کی چند علامات دور کر کے اِن پر اپنا سحر طاری کر سکے، بلکہ یہاں مراد یہ ہے کہ کوئی ان سے وہ والی باتیں اور گفتگو کر کے اس انداز میں ہسٹری لے یا جانچ پڑتال کرے کہ اندر کی بات بھی بُوجھ لے، اور زاتی تشخص اور انا بھی متاثر نا ہونے دے، میرے معزز قارئین میں نے آخر تک مریضہ کو اس کے ٹیبل پر موجود پاؤں کے بارے پوچھا تک نہیں بلکہ اس طرف ایک نظر تک اُٹھا کر نہیں دیکھا، کیونکہ میری زات کی میری حد تک توہین مجھے قبول ہے اگر بدلے میں شفاء کا حصول ہو، مگر جہاں خالصتاً مقصد ہتک عزت اور نیچا دکھانا ہو تو وہاں پھر اللہ بچائے۔ چونکہ میں سمجھ چکا تھا مہارانی اپنی فطرت کے عِوض مجبور ہے  اور اس لیے میں نے ڈلکامارا کا انتخاب کیا۔ میرے معزز ہومیوپیتھس تحریر کے اختتام پر ایک کلینکل Tip دے جاتا ہوں جن والدین کے بچے اپنی مرضی سے شادی کر لیں یا گھر سے بھاگ کر نکاح کر لیں تو ایسی ماں کو اگنیشیا یا سٹیفی کی بجائے ڈلکامارا دیکر دماغ اور دل کے امراض یا کسی دھڑ کے فالج سے باز رکھا جا سکتا ہے۔  اور یہاں بات صرف ڈرگ پکچر کی ہے، دوا کے پیچھے چُھپے اصل مرکز کی ہے۔ جو کہ یہاں پر مُدعا خلافِ مرضی یا حُکم عدولی کا ہے۔ دوستو اگر آپ کو میرے اس کیس اور دوا کے کیمیکل میکانزم سمجھانے سے کچھ نیا سیکھنے کا موقع مِلے، مریض یا کسی بھی انسان کی فطرت سمجھے میں مدد مِلے تو میرے لیے دُعا لازمی کر دیجیے گا، آخر میں وہی درخواست جو ہمیشہ سے کرتا آیا ہوں، آرٹیکل دل کو لگے تو صدقہ جاریہ کے طور پر دوسروں تک ضرور شئیر کریں تاکہ ہم سب انسان کی فلاح کا زریعہ بن سکیں۔ اور ہاں کمینٹ  میں اپنی رائے کا اظہار ضرور اور لائک ضرور کیجیے۔ 

تحریر و تحقیق: ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد لاہور

  • #menopause
  • #مینوپاز ، hormone
  • #ہارمون
شیئر کریں:FacebookWhatsApp