Skip to content

مُردہ نما جڑواں حمل کا کیس

مردہ نُما جڑواں حمل میں کلاسیکل ہومیوپیتھی نے سب کو حیران کر دیا۔ بمع لیب ریورٹس

تحریر: Homoeopathic Dr. Sohail Ahmed·16 منٹ مطالعہ·

آج آپ کی خدمت میں اپنا ایک ایسا جینیٹک میازمیٹک شفایافتہ کیس لیکر حاضر ہوا ہوں جس کے سائنسی ثبوت، عقلی دلیل اور منطق بھی پیش کروں گا، ہومیوپیتھک فلسفے اور ایلوپیتھک ڈیمانڈز کے مطابق یعنی علاج سے پہلے، دوران اور شفاء کے بعد کی رپورٹس بھی کمینٹ سیکشن میں پیش کرونگا۔ فقط آپ کی دعا چاہیے۔ معزز قارئین اس خاتون کو ایلوپیتھک گائناکالوجسٹ ڈاکٹر نے لاعلاج اور ناقابلِ حل قرار دیا، پہلی بار حاملہ ہونے والی عورت جس کے پیٹ میں دو جڑواں بچے تھے، ایک بچہ فقط کمزور تھا جبکہ دوسرا شمار کے قابل ہی نہیں تھا، وہ خود تو ضائع شدہ تھا مگر علاج نا ہونے کی صورت میں Baby 1 کو بھی لے ڈُوبتا اور ماں کو بھی شدید پیچیدگیوں اور زہریلی عفونتوں کا شکار کر دیتا، اور پری میچور برتھ اور وقت سے پہلے سرجیکل ڈلیوری کا باعث بن جاتا۔ دوستو ہمارے کچھ قارئین اصرار کرتے ہیں کہ آپ مکمل ترتیب اور تاریخ ظاہر کر کے رپورٹس کو کمینٹ سیکشن میں ڈالا کریں، تو آج ہم نے ایسا ہی کیا ہے، آپ کمینٹ سیکشن دیکھ سکتے ہیں کہ کیسے ہم نے اللہ خالق و مالک کی توفیق سے 98 فیصد مُردہ نما بچہ زندہ اور نارمل کیا، اور دوسرے بچے کی صحت کو بھی ڈبل کیا، ماں کو بھی محفوظ کیا۔

ہومیوپیتھک علاج شروع ہونے سے پہلے:

آخر تک اس آرٹیکل سے جُڑے رہیے گا، کیونکہ آخر سے بہت دلچسپ ہونے والا ہے، دوستو سائنس کی دنیا کا ایک مشہور فلاسفر اور سائنس کا theorist جس کا نام ہے تھومس کُہن (Thomas kuhn) تھومس نے اپنی کتاب The Structure of Scientific Revolutions میں پیراڈائم

کا تصور پیش کیا۔ ان کے مطابق

مختلف سائنسی نظام یعنی جیسے (ایلوپیتھک میڈیکل سائنس اور ہومیوپیتھک میڈیکل سائنس) اپنے بنیادی مفروضات، نظریات، فلاسفی اور اصطلاحات رکھتے ہیں، اس لیے ان کی تشریح ان کے اپنے نظریاتی فریم ورک میں ہوتی ہے۔ یعنی ایک ایلوپیتھک ڈاکٹر آگمینٹن گولی Augmentin 1000 mg روزانہ مریض کو یورن انفیکشن کے لیے دن میں دو بار کھلاتا ہے، اسی مریض کو ساتھ ڈپریشن کے لیے Sertraline یا Fluoxetine بھی دیتا ہے، اور ساتھ مائیگرین کے لیے Tramdaol، اور اعصابی خوف کے لیے ایک دو سپلیمنٹ بھی لکھ دیتا ہے دوستو اس کے برعکس ہومیوپیتھک فلاسفی کو فالو کرنے والا معالج ان سب مسائل پر فقط ایک ہی دوا لکھے گا، جو ممکنہ طور پر Staphysagria 1m ہو سکتی ہے، جو مریض کو ٹھیک کر دے گی، اور ہاں ہومیوپیتھک ڈاکٹر کبھی بھی ایلوپیتھک ڈاکٹر کی طرز پر آگمینٹن کی طرح اپنی تجویز شدہ بڑی پوٹینسی دن میں دو دو بار مٹیریل کی بنیاد پر نہیں دہرائے گا، ممکن ہے سات یا دس دن میں ایک بار دہرائے، اور مٹیریل بھی ٹوکری بھر نہیں ہو گا، فقط 2 یا تین گرین وہیکل میں دو یا تین قطرے، دوستو یہ ہے دونوں کے نظریات اور فلاسفی میں فرق، ایک طرف مٹیریل کا فلسفہ جبکہ دوسری طرف ڈائنامک، اب اگر ایک ایلوپیتھک نظریات کا حامل معالج ہومیوپیتھک میڈیکل سائنس کو اپنی ایلوپیتھک سائنس کے مطابق ثابت کرنے یا آزمانے کی غیرعقلی / غیرسائنسی کوشش کرے گا تو وہ بھلا کیا کرے گا؟ وہ ہماری ہومیوپیتھک دوا کو اپنے فلسفے اور طریقے کے مطابق مثلاً سٹیفی سیگریا 1m کو چمچ بھر کر سیرپ کی طرح دن میں تین تین بار دینا شروع کر دے گا، ایک ایک گلاس پانی کے ساتھ، ساتھ دودھ لازمی قرار دے گا، سٹیفی سیگریا کے ساتھ دس دوائیاں اور بھی ٹھوکے گا فقط مرض کو سپریس کرنے کے نام پر اور شاید سالہا سال کھلاتا ہی جائے گا، دوستو میں جھوٹ تو نہیں کہہ رہا نا؟ کیا یہی فلسفہ ایلوپیتھی ہے نا۔ اور اگر ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر ایلوپیتھک سائنس کو اپنے نظریے یا فلسفے سے آزمانا/ تجربہ کرنا چاہے گا تو وہ ایک پیناڈول کو دس بیماریوں پر دے کر ہفتہ انتظار کرتا رہے گا۔ چاہے مریض تب تک ویسے ہی پُھڑک جائے، اب آپ ہی بتائیں کیا یہ غیر عقلی اور غیر سائنسی حرکت نہیں ہے؟ جی ہاں غیر سائنسی ہی ہے یعنی دوسرے نظام یا نظریے کو اپنے نظریے، قوانین اور مٹیریل کے تحت رہ کر آزمانہ یا تجربہ کر کے ایک رائے قائم کر لینا۔ ایک اور مثال دے دیتا ہوں کہ پاکستانی. فرد سعودی عرب جا کر کسی فرد کو موت کے گھاٹ اتار دے یا پھر لندن جا کر اپنی ہٹی / دکان بنا لے اور ملاوٹ بمع کم تولنا شروع کر دے اور یقین کر لے کہ اس کو پاکستان کی طرح چند پیسے لیکر ق۔ ت۔ ل۔ یا تول میں کمی جیسے جرم میں چھوڑ دیا جائے گا تو کیا یہ اس کی خام خیالی نہیں ہو گی؟ کیا وہ بیوقوف نہیں کہلائے گا کیونکہ اس نے کسی دوسرے ملک کے نظام کو اپنے ملک کے نظام کے مطابق سوچ لیا یا نظریہ قاِم کر لیا۔ دوستو یہ دونوں Systems کے فلسفہ، قانون اور طریقہ کی بات ہو رہی، لازم نہیں دوائیاں میری بتائی گئی ہی دی جائیں۔ یعنی Kuhn کے مطابق ثابت ہوا کہ ایک سائنسی نظام، کسی دوسرے سائنسی نظام کو اپنے مطابق نہیں چلا سکتا اور نا ہی اپنی مرضی سے تشریح کر سکتا ہے۔ ہومیوپیتھی پر تجربات اور آزمائش کرنے کے لیے ہومیوپیتھک فلاسفی، نظریات اور قوانین سے گُزرنا ہو گا۔ ایلوپیتھک دوائی جانوروں پر آزمانی ہو گی، جبکہ ہومیوپیتھک دوائی صحت مند انسانوں پر آزمانی ہو گی یہی دونوں کا فلسفہ ہے۔ اسی لیے ہومیوپیتھ احساسات تک پوچھتا ہے کیونکہ ایک انسان تجربہ کے بعد اپنے احساس بتا سکتا ہے، جبکہ جانور اپنے کسی ٹشو کے زریعے ساختی تبدیلی ظاہر کر سکتا ہے۔ یعنی دو نظامِ فکر (systems) اپنے بنیادی اصولوں، تعریفوں اور مفروضات میں مختلف ہوں تو ایک نظام کو دوسرے نظام کے اندرونی اصولوں سے رد یا ثابت کرنا مکمل طور پر درست استدلال نہیں ہو سکتا۔ ہمارے دعووں کو رد کرنے والے یہ یاد رکھ لیں کہ کسی نظریاتی نظام کو سمجھنے اور اس کے اندرونی دعووں کا تجزیہ کرنے کے لیے پہلے اسے اس کے اپنے بنیادی اصولوں اور فریم ورک کے اندر سمجھنا ضروری ہے۔ معزز قارئین یہی نہیں پھر اِمرے لاکاٹوس Imre Lakatos بھی اپنی کتاب The Methodology of Scientific Research Programmes

میں سائنس کی تشریح ہُوبہُو اسی طرح کرتے ہیں، رُکیے! یہی نہیں بلکہ Paul Feyerabemd بھی اپنی کتاب Against method میں سائنسی فلسفہ کو اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ اب ہم آتے ہیں کہ ایلوپیتھک میڈیکل سائنس جینیٹک کی تعریف کس طرح کرتی ہے اور ہومیوپیتھک میڈیکل سائنس جینیٹک کی تعریف کس طرح کرتی ہے۔ اور اِن دونوں طریقوں میں کونسا طریقہ علاج انسانیت کو اپنے دعووں کے ساتھ ساتھ حل بھی دیتا ہے۔ ہومیوپیتھک فلسفے کے مطابق رحمِ مادر میں موجود پیدائشی غیر معمولی کیفیت کو Miasmatic یا Genetic Manifestation کہنا قابلِ فہم اور اور سائنس کے فلسفہ سے ثابت ہے۔ جبکہ ایلوپیتھی کے نزدیک Genetic ثابت کرنے کے لیے والدین سے جین کی منتقلی کا ثبوت درکار ہوتا ہے صرف پیدائشی abnormality کافی نہیں ہوتی۔

مزید بتاتا چلوں کہ ہومیوپیتھک فلسفے کے مطابق جب کوئی غیر معمولی کیفیت یا نقص بچے میں رحمِ مادر ہی میں موجود ہو اور اس کی موجودگی جدید تشخیصی ٹیسٹوں سے بھی ثابت ہو جائے، تو اسے محض بعد از پیدائش پیدا ہونے والی بیماری نہیں سمجھا جاتا بلکہ ایک پیدائشی اور موروثی Genetic کیفیت تصور کیا جاتا ہے۔ چونکہ ہومیوپیتھی موروثی اثرات، میازمی رجحانات اور کونسٹیٹیوشنل کمزوریوں کو نسل در نسل منتقل ہونے والی حقیقت تسلیم کرتی ہے، اس لیے ایسی حالت کو ہومیوپیتھک منطق کے تحت ایک جینیٹک کیس قرار دیتی جو کہ سائنسی اعتبار سے قابلِ فہم ہے۔ دوسرے الفاظ میں اگر کوئی نقص بچے کے وجود کا حصہ رحمِ مادر ہی میں بن چکا ہو اور وہ پیدائش سے پہلے موجود ہو، تو یہ ایک موروثی و میازمی اظہار (Hereditary and Miasmatic Manifestation) ہے، جسے جدید اصطلاح میں جینیٹک کیس کہا اور مانا جائے گا۔ دوستو یہی دو متفرق نظریات ہیں جو دونوں طریقہ علاج کو الگ کرتے ہیں۔ کیا کبھی روایتی دشمنوں انڈیا اور پاکستان نے ایک دوسرے کو تسلیم کیا؟ کیا کبھی سُنی اور وہابی نے ایک دوسرے کو سچا تسلیم کیا؟ دوستو انسانی دماغ کی بناوٹ ہی ایسی ہے جو فقط اپنا مفاد سوچتا ہے۔ کبھی اپنا وطن، کبھی اپنی زات تو کبھی اپنا پیشہ، وہ مخالف سمت کو قبول نہیں کرتا۔ اب آتے ہیں ہومیوپیتھی اور ایلوپیتھی صحت اور بیماری کی تعریف کس طرح کرتی ہے؟ ہومیوپیتھک فلاسفی کے مطابق صحت جسم، ذہن اور روح کی کامل ہم آہنگی کا نام ہے۔

جبکہ ایلوپیتھی کے مطابق صحت لیب رپورٹس کے نارمل ہونے کا نام ہے ، خواہ مریض تکلیفوں اور نا خوشگوار احساسات سے تنگ آ کر خود کشی ہی کر لے۔ اسی لیے ہومیوپیتھ وہ سب احساسات بھی پوچھتا اور ان کو حل کرتا ہے جو دنیا کی کسی بھی لیب رپورٹس میں آ ہی نہیں سکتے۔😊

اب دیکھتے ہیں بیماری کے بارے دونوں سائنسی طریقوں کے کیا نظریات ہیں ؟ ہومیوپیتھک قوانین اور فلاسفی کے مطابق! بیماری دراصل Vital Force کی ایک غیر مرئی/ غیر مادی (Dynamic) خرابی ہے جو بعد میں علامات کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

لہٰذا ہومیوپیتھی میں علامات بیماری نہیں بلکہ بیماری کا اظہار (Expression) سمجھی جاتی ہیں۔ جبکہ ایلوپیتھی میں لیب رپورٹس کا خراب آنا بیماری ہے ، جبکہ ہومیوپیتھی لیب رپورٹس کو بیماری کی لوکیشن ، اور شدت جاننے کے لیے ایک hint سمجھتی ہے۔ اِس کی مثال میں یوں دیتا ہوں کہ ایک ایلوپیتھ کے کہنے پر جب مریض ایک کلو لیب رپورٹس کروا چکا ہوتا ہے تو تمام رپورٹس میں ثابت ہو چکا ہوتا ہے کہ لیب رپورٹس مکمل نارمل ہیں، چونکہ ایلوپیتھک معالج وقتی دوائیاں دے دے کر تنگ آ چکا ہوتا ہے ، اس لیے وہ کہتا ہے تمہیں کوئی مسئلہ نہیں ، جاو تم ٹھیک ہو، دوستو میں قربان جاوں ہانیمن اعظم پر جس نے کہا کہ صحت جسم، ذہن اور روح کی مکمل ہم آہنگی کا نام ہے♥️ یہاں ایک ہومیوپیتھک معالج پھر اس کو مریض کو بیمار سمجھ کر سہارا دیتا ہے اس کی دنیا جہاں کی رپورٹس میں نا آ سکنے والی خواہشات خوف اور خواب پوچھتا ہے، احساسات پوچھتا ہے وہ اُن کو حل بھی کرتا ہے۔ ♥️ ثبوتوں کے طور پر میرے لاتعداد google reviews اور ویڈیو فیڈبیکس موجود ہیں۔ اب ان احساسات اور خواہشات کے نارمل اور خوشگوار ہونے کی صورت میں ایک ایلوپیتھ کونسی لیب رپورٹ مانگے ؟ گا 😃 دوستو جب ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹر کسی کرونک یا جینیٹک بیماری کو اللہ کے حُکم سے ٹھیک کرتا ہے تو تب ایلوپیتھک معالجین ان سے رپورٹس مانگتے ہیں، signs اور symptoms پر یقین ہی نہیں کرتے، اور جب خود کے پاس مِرگی ، Ocd, migraine یا schizophrenia کے مریض آ جائیں تو پھر یہ بھی signs اور symptoms پر ہی اکتفا/گزارہ کرتے ہیں، اور باہر بورڈز پر لِکھ کر لگاتے ہیں فلاں فلاں مرض کے ماہر سپیشلسٹ، یہ کیوں نہیں لکھتے کہ وقتی طور پر سہارا یا فرسٹ ایڈ دینے کے ماہر، ایک بیماری کی مینجمنٹ کے ساتھ پانچ بیماریاں تحفے میں مُفت ۔۔۔ دوستو آپ مجھ پر متعصب ہو کر تنقید تو کر سکتے ہیں مگر میری باتوں کو عقلی دلیل اور منطق سے رد نہیں کر سکتے، معزز قارئین صحیح بخاری اور مسلم شریف میں حدیث کے الفاظ ہیں آگاہ رہو! جسم میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو جاتا ہے تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے، اور جب وہ خراب ہو جاتا ہے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ آگاہ رہو! وہ دل ہے۔ دوستو اب سمجھ آئی کہ ہومیوپیتھی ہولسٹک سائنس کیوں کہلاتی ہے؟ ایک ایلوپیتھ کو مریض کہے ڈاکٹر صاحب آپ کی کروائی گئی پانچ کی پانچ رپورٹس ٹھیک ہیں مگر میں ٹھیک نہیں ہوں، میرا دل بے چین ہے، زہنی سکون نہیں، اس لیے سارا جسم نڈھال رہتا ہے، تو کیا آپ جانتے ہیں ایلوپیتھک ڈاکٹر کیا کرے گا؟ وہ اُس کو نیند یا ڈپریشن کی دوائیاں لکھ دے گا، پین کِلر لِکھ دے گا یا ممکنہ طور پر سپلیمنٹ لِکھ دے ؟ کیا اس نے اپنے ہی نظریہ کی نفی نہیں کر دی ؟ بیماری کی تشخیص تو ابھی ہوئی نہیں ؟ پھر دوائیاں کیوں لِکھ دیں ؟ اگر کسی بیماری کی تشخیص نا ہونے پر قبر تک دوائیاں لکھنے والا عمل درست ہے تو پھر ہومیوپیتھک ڈاکٹر کے ہاتھ سے جینیٹک بیماری ٹھیک ہونے پر تشخیصی رپورٹس ثبوت کے طور پر مانگنا شفاء کی تصدیق کے لیے لازم ہر گز نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ مریض کی تمام علامات اور جو تکلیفیں وہ لیکر آیا تھا وہ سب تو رفع ہو چکیں۔ پھر رپورٹس کیوں؟

ایلوپیتھس متوجہ ہوں! جب لیب رپورٹوں کے بغیر خود ہی بیماری تصور کر کے اور خود ہی دوائیاں لگانے کا فیصلہ کر لیا تو پھر ہومیوپیتھ کے ہاتھوں شفاء کا لیب ٹیسٹوں میں ثابت ہونا ضروری کیوں ہے؟ جب ایلوپیتھ نے بیماری لیب ٹیسٹوں کی بجائے signs اور symptoms پر کنفرم کر لی تو ایک ہومیوپیتھ انہی signs اور symptoms کے ختم/رفع ہونے پر شفاء ڈکلئیر کیوں نہیں کر سکتا ؟ میں ایسے بیشمار MRI, CT scan دکھا سکتا ہوں جس میں تشخیص کچھ نہیں ہوتا مگر مریض بیس بیس سال سے مِرگی کے دوروں میں مبتلا ہیں اور نشہ آور دوائیاں بھی کھا رہے ہوتے ہیں، دوستو ہے نا سارے کا سارا گورکھ دھندا 😃۔ معزز قارئین! دنیا کی کوئی بھی CT Scan یا MRI دکھا دیں جو Epilepsy یا اُس کی وجہ کی تشخیص کر سکے ؟ اور دنیا میں کوئی ایسا ایلوپیتھک ڈاکٹر دکھا دیں جس نے مرگی کی بیماری ٹھیک کی ہو ؟

جب ایلوپیتھس مرگی کی تشخیص کے لئے مریض کے signs اور symptoms پر اکتفاء کر سکتے ہیں اور مرگی تصوّر کر کے ، lerase ، epival جیسی ڈرگز لگا دیتے ہیں تو بیماری میں شفا کے ثبوت کے طور پر ہومیوپیتھک ڈاکٹر سے MRI اور CT scan ہی کیوں چاہیے ؟ ہے نا کھلا تضاد ؟ مریض کے احساسات اور تکلیفات کی کوئی قدر نہیں جو کہ 70 فیصد رپورٹس میں آتے ہی نہیں۔ بھئ جب ایک ٹیسٹ بیماری کی تشخیص نہیں کر سکتا تو وہ اسی بیماری کے شفایاب ہونے کی تصدیق کیسے کر سکے گا ؟ 😁 ہے نا یہاں بھی گورکھ دھندا ؟

اب آتے ہیں کیس کی طرف، میری یہ مریضہ چائنہ سے پاکستان واپس آئی، پہلا حمل تھا، غم سے نڈھال تھی، اور حمل کے پچیسویں ہفتے یعنی تیسرا ٹرائی میسٹر سٹارٹ تھا، شکم میں ایک نہیں بلکہ جڑواں بچے تھے، 3 فروری کی Obstetric Ultrasound کے مطابق Baby 1 یعنی پہلا بچہ کمزور مگر فنکشنل نارمل تھا، وزن 550 گرام تھا، Amniotic fluid بھی نارمل تھا۔ جبکہ Baby 2 یعنی دوسرا بچہ اور بچے کا وزن شمار کے قابل ہی نہیں ہے، Amniotic fluid بھی صِفر ہے، دوستو اس حالت کو جدید میڈیکل اصطلاح میں TTTS کہتے ہیں، جس میں اکثر ایک بچہ مر جاتا ہے اور دوسرا نیورولوجیکل متاثر ہو جاتا ہے، کیونکہ ایک ہی Placenta دونوں بچوں سے کنیکٹ ہوتی ہے اور ماں کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے، بعض کیسز میں تو دونوں بچے مرنے کے چانسز ہوتے ہیں۔ ہم نے جب مزید ہسٹری لی تو پتہ چلا کہ مریضہ کی رہائش چائنہ میں ایسے علاقے میں تھی جو ساحلِ سمندر کے قریب ہے، اور دوستو سمندری کناروں میں رہنے والے لوگوں کو نمکین مرطوب ہوا میں survive کرنا پڑتا ہے۔ جس سے جسم میں ڈھیر ساری خشکی اور خشکی سے ملحقہ امراض جنم لے لیتے ہیں، جسے ہم کہتے ہیں Aggravation by sea shore, اس خاص خشکی کی حالت میں باڈی کا واٹر بیلنس خراب ہوتا ہے، Osmotic pressure imbalance یعنی کچھ حصوں میں پانی کی کمی اور کچھ حصوں میں پانی کی زیادتی ہو جاتی ہے، یعنی جسمِ انسانی میں پانی کی غیر مساوی تقسیم کی وجہ سے پانی خون اور خلیات کی بجائے interstitial tissues میں جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے، چنانچہ اس سے الیکٹرولائٹ ریگولیرٹی بھی متاثر ہوتی ہے، اسی وجہ سے ماں کے جسم سے بچوں کو نمکیات اور غذائیت کی نارمل فراوانی نہیں ہوتی، اور حمل میں پاوں یا بازو سوجنا شروع ہو جاتے ہیں، کیونکہ نمکیات بھرا پانی انٹرسٹیشل ٹشوز میں چلا جاتا ہے اور حمل fluid سے محروم رہ جاتا یا فراوانی مفقود ہو جاتی، اور یوں TTT سنڈروم بن جاتا۔ اور اس کیمیکل بگاڑ اور خاص پیٹرن سے وقوع ہونے والی Etiology کے لیے ہومیوپیتھی میں ایک دوائی کرشماتی ہے ، جس کا نام ہے نیٹرم میور، نیٹرم میور کی مریضہ شدید introvert ہوتی ہے، سب کچھ اندر ہی رکھتی ہے جیسا کہ سوچ (جس سے مائیگرین ہو جاتا)، سٹول (جس سے قبض ہو جاتی)، پرانے غم یا کسی اپنے کی جُدائی کا قہر ( جس سے fluttering یا Palpitation رہنے لگتی، اور یہ Past اور Regrets میں رہنے والی عورتوں کی شاہی دوا سمجھی جاتی ہے۔ جب ہم نے کیمسٹری اور causation کو آشکار کر لیا ہے تو پھر ایک ہزار حالتیں یا بیماریاں لے آئیں، شافی دوا یہی ہو گی۔ میرے معزز قارئین ان سبھی حالتوں کی سب سے بڑی دوا جو ہومیوپیتھک ڈاکٹر کی شہرت میں اضافے کا سبب بنتی ہے نیٹرم میور ہے۔ اس مریضہ کو ہفتہ وار نیٹرم میور کی خوراکیں دہرائی گئیں، ساتھ فقط الیٹرس فیری نوسا دیا گیا، اللہ کی شان ہے جو گروتھ اور استحکام 24 ہفتوں میں نہیں ہو سکی وہ صرف 20 دن میں ہو گئی، Baby 1 کا وزن 550 گرام سے بڑھ کر 1200 گرام یعنی ڈبل ہو گیا، اور مُردہ نما Baby 2 کا وزن زیرو سے 700 گرام ہو گیا، اور Amniotic fluid بھی بننا شروع ہو گیا، جو کہ پہلے totally absent تھا،

الحمداللہ،،،، یہی نہیں!!

ٹھہریے آپ کو تیسرے وزٹ یعنی مزید 26 دن بعد کا فالواپ بھی دِکھاتے ہیں، قارئین اس وزٹ پر یعنی 20 مارچ کی آبسٹیٹریکل کلر ڈوپلر الٹراساونڈ میں Baby 1 کا وزن جو 550 گرام سے شروع ہوا تھا، پھر 1200 گرام اور اب مزید 20 دنوں میں پچاس فیصد بڑھ گیا ، یعنی 1745 گرام ہو گیا۔ اور جو Baby 2 مُردہ نما تھا، اس کا وزن صفر سے بڑھ کر 700 گرام ہوا، اور اب الحمداللہ 907 گرام ہو گیا، اور اللہ کی رحمت سے Amniotic fluid بھی Adequate یعنی نارمل ہو گیا۔ ♥️

دوستو مزے کی بات بتاوں تو یہ تینوں الٹراساونڈ رپورٹس اتفاق ہستپال ماڈل ٹاون لاہور کی وہی گائنی کالوجسٹ کرتی رہی ہے جس نے کہا تھا اس کا کوئی حل نہیں۔ اور بخار سے دوائی شروع کروا کر قبر تک دوائیاں ہی دوائیاں کھلانے والے ہمیں کہتے ہیں کہ ہم جینیٹک کا علاج نہیں کر سکتے، ہم ثبوت نہیں دے سکتے، میرے معزز فالورز اور قارئین آپ سے ایک ہی التجا ہے کہ ان سب کو اس آرٹیکل پر مینشن یا ٹیگ لازمی کریں اور اس آرٹیکل کو اتنا شئیر کیجیے کہ حقائق سے پُوری دنیا آشنائی حاصل کرنے لگے۔ اور اگر آپ کسی فیسبک گروپ کے اندر یہ آرٹیکل پڑھ رہے ہیں اور کمینٹ میں اس دعوے کے ثبوت موجود نہیں ہیں تو ڈائریکٹ میری آئی ڈی/ اکاؤنٹ میں جا کر یہی آرٹیکل اوپن کیجیے اور کمینٹ سیکشن میں تاریخوں اور حوالوں کے ساتھ علاج سے پہلے، دوران اور شفاء کے بعد کے ثبوت دیکھیے۔ برائے مہربانی میرا اکاونٹ فالو کرنا نا بُھولیے گا۔ اگر میری محنت کو سراہنا چاہتے ہیں تو کسی تعصب سے پاک ہو کر شئیر کیجیے۔ اللہ آپ سب کو نیک نیتی پر ڈھیروں انعام دے، اور میرا حامی و ناصر ہو۔

تحریر و تحقیق: کلاسیکل ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد لاہور

  • #Twin pregnancy
  • #High risk pregnancy
  • #amniotic fluid
  • #genetic diseases
  • #allopathy
  • #homeopathy
شیئر کریں:FacebookWhatsApp